پینے کا صاف پانی

دستیاب صاف پانی صحت عامہ کے لئے اہم ہے چاہے اسے پینے ، گھر خوراک کی پیداوار کے لئے استعمال کیا جائے یا دیگر ضروری سرگرمیوں کے لئے۔ پانی اور صفائی کی بہتر فراہمی اور پانی کے وسائل کے بہتر انتظام سے کسی ملک کی اقتصادی شرح نمو بڑھے گی جبکہ یہ غربت میں کمی میں بھی کردار ادا کرسکتا ہے۔ 2010 ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے صفائی اور پانی کو واضح طور پر انسانی حق تسلیم کیا ہر کسی کی ذاتی اور گھریلو استعمال کے لئے وافر، مسلسل، صاف، قابل قبول، جسمانی طور قابل رسائی اور قابل برداشت پانی تک رسائی حق ہے۔

پانی اور صفائی

آلودہ پانی اور ناقص صفائی بیماریوں جیسے ہیضہ، دست وقے، پیچش، ہیپاٹائٹس اے، میعادی بخار اور پولیو کی منتقلی کی وجہ بنتے ہیں، پانی اور صفائی کے ناکافی اور غیر مناسب انتظام لوگوں کو قابل تدارک بیماریوں کے خطرے سے دوچار کرتا ہے۔خصوصاً مراکز صحت ،جہاں پانی، صفائی اور حفظان صحت کی خدمات کی کمی ہو، میں عملے اور مریضوں کے انفیکشن کے شکار ہونے کا اضافی خطرہ ہوتا ہے۔ عالمی سطح پر 15 فیصد مریض ہسپتالوں میں قیام کے دوران انفیکشن کا شکار ہوتے ہیں یہ تناسب کم آمدن والے ممالک میں اس سے بھی زیادہ ہے۔

گندگی /کوڑا کرکٹ ٹھکانے لگاناکوڑا کرکٹ/گندگی کو ٹھکانے لگانا عالمی سطح پر ماحولیات کے تحفظ کا اہم عمل ہے اس پر انفرادی اور ادارہ جاتی طور پر عمل کرنا چاہئے، اس سے ماحول صاف رہے گا صحت اور آبادی سے متعلق مسائل کم ہوں گے اس عمل میں درج ذیل ذمہ داریاں شامل ہیں۔

کوڑا کرکٹ/گندگی

وہ سرگرمیاں جن میں ایسا مواد جو مزید قابل استعمال نہ ہو، پھینکا جاتا ہو یاتلف کرنے کے لئے اکٹھا کیا جاتا ہو

موقع پر استعمال، ذخیرہ اور عمل

وہ سرگرمیاں جو کوڑا کرکٹ/گندگی کو موقع پر ٹھکانے لگائے، جمع کرے یا جہاں سے ملے وہاں قریبی جگہ پر پراسس کیا جاتا ہے

اکٹھا کرنا

وہ سرگرمیاں جن میں کوڑا کرکٹ کو اکٹھا کر کے گندگی اٹھانے والی خالی گاڑیوں تک لے جایا جاتا ہے

منتقلی، نقل وحمل

وہ سرگرمیاں جن میں کوڑاکرکٹ/گندگی کو چھوٹی گاڑیوں سے بڑی نقل وحمل والی گاڑیوں اور آلات میں منتقل کیا جائے اور پھر اسے دوسری جگہ لے جایا جاتا ہے عموماً طویل فاصلے پر واقع تلف کرنے والی جگہ (ڈسپوزل سائٹ) لے جایا جاتا ہے

عمل اور دوبارہ حاصل کرنا

تکنیک، آلات اور سہولیات جنہیں دیگر فعال عناصر کی کارکردگی کی بہتری اور قابل استعمال مواد کو دوبارہ استعمال میں لانا، دیگر اجزاء یا اشیاء میں بدلنا یا کوڑا کرکٹ سے توانائی پیدا کی جاتی ہے

تلف، رفع کرنا/ٹھکانے لگانا

وہ سرگرمیاں جو کوڑا کرکٹ کو تلف کرنے یا ٹھکانے لگانے سے متعلق ہو، بشمول کوڑا کرکٹ اکٹھا، جمع کرنا اور براہ راست لینڈ فل سائٹ تک لے جانا، گندہ پانی کے ٹریٹمنٹ پلانٹ سے نیم ٹھوس کچرا، انسی نریٹر سے رہنے والا کچرا، ہاد یا دیگر مادہ جو گندگی تلف کرنے والے پلانٹس سے پیدا ہوتا ہو جو مستقبل میں مزید استعمال کا نہ ہو

گندہ پانی نکاس نالیاں/نکاسی آب نظام

گندہ پانی نکاس نالیوں، پائپوں اور پمپوں کا وہ نظام ہے جس میں ایک علاقے سے گندہ پانی کو نکالا جاتا ہے۔ گندہ پانی نکاس نظام کے دو درجے ہیں، گھریلو اور صنعتی نکاسی آب اور طوفانی بارانی پانی نکاس۔ بعض اوقات ایک مشترکہ نظام صرف پائپوں، نالیوں اور بیرون نکاس کے لئے صرف ایک نیٹ ورک فراہم کرتا ہے جو تمام قسم گندہ پانی کو آخری سرے تک بہا لے جاتا ہے تاہم ترجیحی نظام گھریلو اور صنعتی پانی کے نکاس کے لئے ایک نیٹ ورک فراہم کرتا ہے جس میں پانی چھوڑنے سے پہلے گندگی سے پاک کیا جاتا ہے جبکہ طوفانی بارانی پانی کے لئے ایک علیحدہ نظام ہوتا ہے جسے عارضی طور پر کسی باسین یا پائپ کو منتقل کیا جاتا ہے اور ایک جگہ پر اسے کسی نالے یا دریا میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔
شہر کے زیادہ تر حصوں بشمول گردونواح کے علاقوں سٹی سرکلر روڈ سے گندہ پانی شاہی کٹھہ میں جاتا ہے شاہی کٹھہ افغان کالونی سے پہلے بھانہ ماڑی، آسیہ گیٹ، کاکشال، شیر شاہ سوری پل، فردوس چوک سے گزرتا ہے اور بالآخر پانی بڈھنی نالے میں گرتا ہے۔ 1996ء میں شہر کے مشرقی حصے میں بچھائی گئی سیوریج لائن شیخ آباد، گلبہار نمبر ایک اور دو، اسد انور کالونی، آفریدی گڑھی، اخون آباد اور پشاور فروٹ مارکیٹ سے گزرتی ہے۔ ایک اور سیوریج لائن شہر کے علاقے تحصیل گور گھٹری سے شروع ہوتی ہے اور کریم پورہ، ہشت نگری، شاہی باغ اور چارسدہ روڈ کے کچھ حصوں سے گزرتی ہوئی دوسری نالیوں کی طرح بڈھنی نالے میں جا گرتی ہے