مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم(MIS)

انفارمیشن ٹیکنالوجی ایک وسیع شعبہ ہے جو خدمات، برقی اعداد وشمار کی مواصلات اور حساب کتاب میں مدد کرتا ہے، آئی ٹی کو تخلیق، رسائی، معائنے اور وسیع پیمانے پر مواد کی تقسیم کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔

آئی ٹی ڈبلیو ایس ایس پی کے روزمرہ امور نمٹانے کاایک لازمی حصہ ہے۔ ڈبلیو ایس ایس پی کے زیر انتظام وانصرام آئی ٹی نظام کمپیوٹرز، ٹرمینلز، پرنٹرز، نیٹ ورکس، آن لائن آف لائن میڈیا سٹوریج ومتعلقہ آلات، سافٹ ویئر اور ڈیٹا فائلز، انٹرپرائز ریسورس پلاننگ سافٹ ویئر، ای میل سرور، ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر اور ڈیٹا سرورز پر مشتمل ہے۔

55606201_2311045965819692_2629961835738038272_o

ٹیکنالوجی تیز ی کے ساتھ تبدیل ہو رہی ہے جبکہ ضروریات مسلسل منتقل ہوتی رہتی ہیں، اہلیت اور کارکردگی سے وابستہ اخراجات کو ٹیکنالوجی کی دستیابی سے متوازن رکھنے کے لئے ڈبلیو ایس ایس پی آئی ٹی فنکشن کو دستیاب مفید حل کے ساتھ فراہم کیا جائے گا۔ ڈبلیو ایس ایس پی آئی ٹی فنکشن یہ ہیں

٭…… آئی ٹی کا موثر استعمال کرتے ہوئے وسائل کے بہتر انتظام واستعمال کے لئے حکمت عملی تیار اور اس پر عملدرآمد کرنا
٭……آئی ٹی وسائل اور خدمات کے موثر ومحفوظ استعمال کے ذریعے پالیسیوں اور طریقہ کار کو اپ ڈیٹ کرنا اور ان کا استعمال
٭……بہتری کے لئے تمام شعبوں کے ساتھ تکنیکی تعاون فراہم اور بہترین ٹیکنالوجیکل انفراسٹرکچر برقرار رکھنا
٭……ملازمین کے لئے ضروری تربیت کی منصوبہ بندی، انتظام کرنا اور ان کا آئی ٹی مہارت بڑھانا

قابل برداشت اخراجات کے عوض موثر آئی ٹی انتظام کے لئے انفارمیشن ٹیکنالوجی پالیساں اور معیارات ضروری ہیں تاکہ رسائی اور معقول سیکورٹی یقینی ہو۔ جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی کے استعمال کے ساتھ فوائد اور خطرات دونوں لازم ہیں۔ یہ پالیسیاں خطرات کو قابل قبول حد تک کم کرنے کے لئے بنائی جاتی ہیں تاکہ آئی ٹی کا استعمال کرنے والوں کے لئے زیادہ سے زیادہ فوائد ہوں۔
سالمیت
آئی ٹی سیکورٹی تمام برقی معلومات اور لین دین کو کسی قسم غلطی اور بے قاعدگی سے محفوظ بنائے گی۔
دستیابی
آئی ٹی سیکورٹی تمام معلوماتی وسائل اور اعداد وشمار کی دستیابی کسی خلل سے محفوظ سے بنائے گی۔
رازداری
آئی ٹی سیکورٹی یقینی بنائے گی کہ معلوماتی وسائل غیر مجاز استعمال اور حادثاتی انکشاف، غلطیوں، دھوکہ دہی، راز داری توڑنے یا دیگر ایسے افعال سے محفوظ ہیں جن سے کسی نقصان کا خدشہ ہو۔

مقاصد

عام آئی ٹی کنٹرول
یہ وہ کنٹرولز ہیں جو کسی ادارے میں ڈیزائن، سیکورٹی، کمپیوٹر پروگرامز اور ڈیٹا فائلز کو کنٹرول کرے۔ مجموعی طور جنرل کنٹرول کمپیوٹرائزڈ ایپلی کیشنز، سافٹ ویئر نظام اور دستی طریقہ کار پر لاگو ہوتے ہیں جو مجموعی کنٹرول ماحول کو جنم دیتے ہیں۔ جنرل کنٹرولز میں درج ذیل شامل ہیں
٭……عملدرآمد نظام عمل پرکنٹرولز
٭……سافٹ ویئر کنٹرولز
٭……فزیکل ہارڈ ویئر کنٹرولز
٭……کمپیوٹر آپریشنز کنٹرول
٭……ڈیٹا سیکورٹی کنٹرولز
٭……انتظامی کنٹرولز

موثر انفارمیشن ٹیکنالوجی نظام کے قیام کے لئے ڈبلیو ایس ایس پی آئی ٹی فنکشن جنرل آئی ٹی کنٹرولز یقینی بنائے گا۔ جنرل آئی ٹی کنٹرولز میں درج ذیل پالیسیاں اور طریقہ کار شامل ہیں۔
٭……ٹیکنالوجی ہارڈویئر مشتری پالیسی
٭……سافٹ ویئر کے حصول اور استعمال کی پالیسی
٭……انفارمیشن ٹیکنالوجی سیکورٹی پالیسی
٭……ڈیٹا بیک اپ
٭……تربیت

ایپلی کیشن کنٹرولز
ہر کمپیوٹر ایپلی کیشن میں خصوصی ایپلی کیشن کنٹرولز ہوتے ہیں، جیسا کہ پے رول یا آرڈر پراسسنگ۔ جن میں خود کار اور دستی طریقہ ہائے کار شامل ہیں جو اس امر کو یقینی بناتے ہیں کہ ایپلی کیشن نے صرف مجاز اعداد وشمار مکمل طور پراسس کئے ہیں۔ ڈبلیو ایس ایس پی کے روزمرہ کے عملیات کو آسان طریقے سے انجام دینے کے لئے آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ ایپلی کیشن کنٹرولز کا قیام اور کنٹرولز کے لئے عملے کی آگاہی یقینی بنائے گا۔ مندرجہ ذیل ایپلی کیشن کنٹرولز کو شامل کیا جائے گا
٭……نیٹ ورک کی دیکھ بھال
٭……برقی خطوط اور داخلی پالیسی
٭……خطرات سے نمٹنا اور انٹی وائرس کا استعمال
٭……اعداد وشمار کی راز داری

پالیسیاں اور طریقہ ہائے کار