آپریشن مینجمنٹ

کسی کمپنی کا آپریشن شعبہ آسان اور منافع بخش نتیجے کا ذمہ دار ہوتا ہے جب آپریشن کا شعبہ اچھی طرح کام کر رہا ہو تو کمپنی جو چاہے جب چاہے بغیر کسی دباؤ یا مشکل کے کرے۔

آپریشن مینجمنٹ ہر کمپنی کا اہم کام ہوتا ہے یہ کسی کمپنی کے حجم یا صنعت جس میں یہ کام کر رہا ہو سے ہٹ کر ایک حقیقت ہے چاہے یہ کمپنی مینوفکچرنگ بارے ہو یا خدمات، منافع بخش یا غیر منافع بخش ہو۔ ڈبلیو ایس ایس پی کا آپریشن شعبہ دو بڑے حصوں میں تقسیم ہے۔

Riaz Ahmad Khan Operations Department

فراہمی آب
پشاور کا فراہمی آب کا نظام تین سے چار یونین کونسلوں کو پانی فراہمی کی تقسیم اور جھرمٹ پر مبنی ہے پشاور میں تقریباً 170 واٹر نیٹ ورکس موجود ہیں جو پرانے ہیں اور آخری سرے تک صارفین کی ضروریات پوری نہیں کرتے، شہری یونین کونسلوں سے پیوستہ علاقوں میں زیادہ ٹیوب ویلوں کے ذریعے پانی فراہم کیا جاتا ہے باقی ماندہ علاقوں میں چھوٹے نظام جس میں دو یا ایک ٹیوب ویلوں کے ذریعے پانی فراہم کیا جاتا ہے آبادی بڑھنے کی وجہ سے یہ علاقے گنجان آباد ہیں جنہیں چھوٹے نظام کے ذریعے پانی فراہم کیا جاتا ہے۔ چھوٹے فراہمی آب نظاموں کو بڑا مسئلہ یہ درپیش رہا کہ ان کی گنجائش وصلاحیت کا جائزہ لئے بغیر پانی کی کمی پر قابو پانے کے لئے متوازی پائپ لائن بچھائی گئی جس میں زمین حتیٰ کہ نالیوں کے اوپر پائپ گزارے گئے ہیں جنہیں مکمل طور ڈھانپا بھی نہیں گیا ہے جس میں پانی آلودہ ہونے کا خدشہ ہوتا ہے اس کے نتیجے میں غیر مرتب تقسیم نظام موثر طور کام نہیں کر رہا۔
شہری علاقوں میں لوگوں نے فراہمی آب نظام سے براہ راست کنکشنز حاصل کر رکھے ہیں، دیہی علاقوں میں جنہیں فراہمی آب نظام سے پانی نہیں مل رہا وہ ہینڈ پمپس اور کنوؤں پر انحصار کر رہے ہیں۔ شہری علاقوں میں زیادہ تر نے بوسٹر پمپ لگا رکھے ہیں جو زیر زمین پانی ذخیرہ یا پائپ لائن پر نصب ہیں جن کے ذریعے ٹینکیوں میں پانی پمپ کیا جاتا ہے۔ جن شہریوں کی بوسٹر پمپ تک رسائی نہیں ہے وہ بالٹیوں یا گھروں میں دوسرے انتظام کے ذریعے پانی ذخیرہ کرتے ہیں۔
نکاسی آب – سیوریج نظام
پشاور کے بارانی اور سینی ٹیشن پانی کے نکاس کا موجودہ نظام کھلی اور ڈھانپی نالیوں کا مجموعہ ہے۔ پائپوں پرمشتمل کئی حصے زیر زمین نکاسی آب نظام کے ذریعے کور ہیں،طوفانی پانی نکاس نظام بھی کم چوڑائی، تجاوزات اور نا قابل رسائی گلیوں کی وجہ سے پیچیدگی کا شکار ہے بارانی پانی کی کسی نالے تک رسائی میں گندگی کا نالیوں میں پھینکنا رکاؤٹ بن رہا ہے۔ ساخت میں خامیوں کی وجہ سے تقریباً 10 فیصد ابتدائی اور ثانوی نالیوں کی دوبارہ تعمیر کی ضرورت ہے، نالیوں سے ریت نکالنا اور ان کی صفائی کو سالوں نظر انداز کیا گیا جس کے نتیجے میں نالیاں بند ہوگئیں اور تجارتی علاقوں میں نالیوں کے کنارے حتیٰ اوپر تجاوزات قائم کی گئیں۔ شہری علاقوں میں زیر زمین سیور پائپوں کو زیادہ تر بہاؤ کی منتقلی کے لئے استعمال کیا جاتا ہے زیادہ تر بنیادی دستاویزی پائپ بند ہیں ثانوی اور بڑی سیور لائنیں بھرنے کی وجہ سے قریبی نہروں،نالیوں میں گندہ پانی منتقل کر رہی ہیں ثانوی اور بڑی نالیوں سے گندہ پانی کی منتقلی کے لئے تعمیر کی گئی بنیادی سیور لائن زیادہ تر بند ہے اس کی مین ہولز کو گندگی جمع کرنے کے لئے استعمال کیا جارہا ہے اور زمین پر نظرنہیں آرہے ماضی کا بیشتر سیور نظام مسلسل نظر انداز اور نگرانی نہ ہونے کی وجہ سے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ گندہ پانی صاف کرنے کی سہولتیں بند تھیں زیادہ تر گندہ پانی دریاؤں، آبپاشی ذرائع، راجباہوں اور زرعی زمین میں جارہا تھا جو آلودگی کی بنیادی وجہ ہے یہ پشاور کے شہریوں اور ماحولیات کے لئے شدید خطرہ ہے۔ کچی آبادیوں /نشیبی علاقوں سے مائع گندگی کے لئے تین پمپنگ سٹیشن ضرورت کے مطابق ڈیزائن یا تعمیر نہیں کئے گئے ہیں۔ سیور اور نکاس کے موجودہ ڈسچارج کے مقامات کا مستقل ڈیزائن ساخت نہیں ہے اور بے ہنگم وکچہ حصوں کے لئے ذریعے نالیوں سے منسلک ہیں نتیجتاً ان ذرائع میں گندہ پانی جا رہا ہے۔ (الف):دریائے باڑہ، دریائے شاہ عالم، بڈھنی نالہ، (ب): آبپاشی کی پانچ نہریں، ان میں غلاظت گر رہا ہے ان ذرائع کا پانی زرعی مقاصد کے لئے استعمال کیا جارہا ہے جو ماحولیات اور صحت عامہ کے لئے مضر ہے۔

فراہمی ونکاسی آب نظام
فراہمی آب

پس منظر
ڈبلیو ایس ایس پی کا گندگی ٹھکانے لگانے (ایس ڈبلیو ایم) نظام بین الاقوامی معیارات پر مبنی ہے ڈبلیو ایس ایس پی کا مقصد معیارات کو بین الاقوامی معیار کی سطح تک بہتر کرنا ہے۔پاکستان تیسری دنیا کا ملک ہے جہاں وسائل کم ہیں تاہم ڈبلیو ایس ایس پی کا ہدف ایس ڈبلیو ایم کو ترقیافتہ ممالک کے برابر لانا ہے۔
مقصد
صاف، صحت مند اور ستھرا پشاور
پشاور ایک تاریخی شہر ہے جو رہائشی، تجارتی، تعلیمی اور دیگر متفرق سہولیات کا مسکن ہے، شہر کو وقت کی ضرورتوں اور ترقیافتہ شہروں کے برابر لانے کے لئے ڈبلیو ایس ایس پی نے کوڑا کرکٹ کو سائنسی بنیادوں پر تلف کرنے کے لئے اراضی حاصل کرلی ہے۔
ًSAMA معاہدہ
ًSAMA معاہدے کے تحت ڈبلیو ایس ایس پی کو فراہمی آب کے کنٹرول، انتظام، صفائی نظام کے انتظام، قاعدے وضابطے میں لانے، کوڑا کرکٹ اٹھانے، علیحدہ، ذخیرہ، دوبارہ استعمال، ری سائیکلنگ، منتقلی، ٹریٹمنٹ اور تلف کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔
آپریشن کا سلسلہ اختیارات /کمانڈ
زونل منیجر< منیجرز(ایس ڈبلیو ایم)<اسسٹنٹ منیجرز (ایس ڈبلیو ایم)< چیف میونسپل انسپکٹرز < میونسپل انسپکٹرز< سپروائزرز< کٹھہ قلی/خاکروب۔
فرائض/سرگرمیاں
ماضی میں نظام روایتی تھا حدود میں سارا علاقہ کور نہیں تھا، صفائی کی باقاعدہ طور نگرانی نہیں ہو رہی تھی عملہ باقاعدگی کے ساتھ ڈیوٹی نہیں دے رہا تھا۔
ابتدائی کچرا اٹھانا- کلیکشن
الف: گھر گھر سے کچرا اٹھانا
ب: گلیوں سے ڈھیر اٹھانا
ثانوی کچرا اٹھانا – سیکنڈری کلیکشن
کوڑا دانوں اور آبادی کے مختلف علاقوں جگہوؤں سے ٹریکٹر ٹرالیوں، ڈمپرز ملٹی لوڈرز کے ذریعے کچرا اٹھانااور ڈمپنگ سائٹ تک لے جانا۔
دھونی/سپرے (Fumigation)
ملیریا اور ڈینگی کنٹرول سپرے
نالیوں میں لاروے خاتمے کا سپرے
محاصل کی وصولی (ریونیو کلیکشن)
کچرا اٹھانے، ہسپتالوں اور نجی کالونیوں میں سپرے سے
پرائیویٹ اور کمرشل علاقوں میں معاہدے کی دستخطی
الف: کتے مارنا
ب: نگرانی
ج: اطلاع دینا/رپورٹنگ
د: متعلقین سے روابط
ذ: صفائی مہمات
ر: آگاہی پھیلانا
موجودہ عمل – پریکٹس
دستیاب محدود وسائل میں ایس ڈبلیو ایم کے ہر کام کو جدید خطوط پر استوار کرنا
مستقبل کے منصوبے
کوڑا کرکٹ کی توانائی میں تبدیلی
جی ایس پر مبنی کوڑا کرکٹ اٹھانے کی خدمات
کوڑا کرکٹ اٹھانے کی شرح 85 فیصد تک لے جانا
کوڑا جمع کرنے کے دائرے کوتوسیع کرنا
کمیونٹی کی سطح پر کھادکی تیاری (Composting)
بڑے پیمانے پر آگاہی پھیلانا

گندگی ٹھکانے لگانا - سالیڈ ویسٹ مینجمنٹ

WhatsApp
Hello, we are here for any question, feel free to talk with us